اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،اولیانوف نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر روٹے کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ یہ شخص خود کو نیٹو کا اعلیٰ ترین انتظامی عہدیدار قرار دیتا ہے، لیکن اس کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں کوئی علم نہیں۔
اولیانوف نے مزید کہا کہ مغرب میں پیشہ ورانہ مہارت کی سطح یا اس کا فقدان ایک حقیقی المیہ ہے۔
روٹے نے بدھ کے روز آپریشن ایپک فیوری کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ رواں سال 28 فروری سے یورپی اڈوں سے تقریباً 5 ہزار طیاروں نے ایران کے خلاف جنگ کی حمایت میں پروازیں کی ہیں۔
انہوں نے امریکی کارروائیوں میں یورپی فوجی انفراسٹرکچر کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر امریکا نے یورپ کو اپنی طاقت کے اظہار اور منتقلی کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال نہ کیا ہوتا تو یہ کارروائی انتہائی مشکل بلکہ عملی طور پر ناممکن ہوتی۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے مزید دعویٰ کیا کہ صرف امریکا ہی ایران کی جوہری صلاحیتوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو ایک ممکنہ اور قریب الوقوع خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطرہ صرف اسرائیل اور مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں بلکہ یورپ کے لیے بھی خطرناک ہے۔
میڈیا کے مطابق، روٹے اس سے قبل بھی رواں سال تیر اور مرداد کے دوران مختلف بیانات اور انٹرویوز میں ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی میں یورپی ممالک کی معاونت کی تصدیق کرچکے ہیں اور اٹلی سمیت بعض ممالک کی جانب سے امریکی جنگی ضروریات کے لیے لاجسٹک معاونت کی تفصیلات بھی بیان کرچکے ہیں۔
آپ کا تبصرہ